5 نومبر 2026 - 00:23
حصۂ دوئم | 1990 کی دہائی میں روس کی تذلیل ہوئی، اور روس مکّار مغرب سے انتقام کی مشین بن گیا

خزاں 1919 میں ورسائی معاہدے نے ذلیل شدہ جرمنی کو غیر مسلح کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تاکہ فاشیت (فسطائیت Facism) کے عفریت کے ابھر آنے کے لئے ماحول تیار کیا جا سکے؛ 70 سال بعد دسمبر 1991 میں، وہی سانحہ ماسکو میں ایک خوفناک جیومیٹری کے ساتھ دہرایا گیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یہ تحریر ان دنوں کی روداد ہے جب بورس یلتسین کے وزیر خارجہ آندرے کوزیریف (Andrei Kozyrev) نے قومی مفادات کو واشنگٹن کی مسکراہٹ پر قربان کر دیا، نیٹو نے تمام تحریری اور زبانی وعدوں کے برعکس مشرق کی طرف چھلانگ لگائی، سرخ فوج کے ٹینک گروزنی کی گلیوں میں مغرب کے مہمل پیروکاروں کے ہاتھوں راکھ کا ڈھیر بن گئے، اور ماسکو کے نم زدہ اور مرطوب تہہ خانوں میں ایک مکتبِۂ فکر نے انگڑائی لی جس نے قسم کھائی کہ اس 'مغرب کی طرف کے، پشت میں لگے خنجر' کا بدلہ مغربی تہذیب سے ضرور لے گا۔

حصۂ دوئم:

25 ملین یرغمالیوں کا المیہ؛ 'قریبی بیرونِ ملک' کا ناسور

سوویت یونین کے خاتمے کا خوفناک ترین جیوپولیٹیکل تاوان غمزدہ انسانوں کی قسمت تھی جنہیں ماسکو کی نئی اسٹراٹیجک اصطلاحات میں 'قریبی بیرونِ ملک' (Blizhneye Zarubezhye) کا نام دیا گیا۔ سوویت یونین کی اندرونی سرحدوں کے خاتمے کے ساتھ، 25 ملین سے زیادہ روسی نسل کے لوگ ـ جو کئی یورپی ممالک کی کل آبادی کے برابر ہیں ـ اپنا گھر بدلے بغیر، یوکرین، قازقستان، لٹویا، ایسٹونیا اور وسطی ایشیا میں "غیر ملکی اقلیت" بن کر پر رہ گئے۔

بالٹک جمہوریاؤں میں، نسل پرستانہ ـ اپارتھائیڈ آ قوانین مسلط کر کے، لاکھوں روسیوں کو "اجنبی شہری" (Alien's Passport) کے توہین آمیز عنوان کے ساتھ سرمئی شناختی کارڈ (Gray ID cards) دیئے گئے؛ انہیں ووٹ کا حق، سرکاری ملازمت اور یہاں تک کہ سرکاری اداروں میں مادری زبان بولنے سے بھی محروم کر دیا گیا۔ وسطی ایشیا اور قفقاز میں خاموش نسلی صفائی کی ایک لہر اٹھی جس نے لاکھوں روسیوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنے آبائی گھر اور جائیدادیں بھاؤ چکا کر چھوڑ دیں اور بے سہارا، بھوکے اور ذلیل پناہ گزینوں کی حیثیت سے ماسکو کے ریلوے اسٹیشنوں میں جا بسیں۔

روسی قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مغربی لوگ دنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کے لئے گریباں چاک کرتے ہیں، لیکن "قریبی بیرونِ ملک" میں لاکھوں روسیوں کے حقوق کی منظم خلاف ورزی کے سامنے وہ رضامندانہ مسکراہٹ کے ساتھ خاموش ہیں۔

روسیوں پر واضح ہو گیا کہ سوویت یونین کی تقسیم یورپ کی سب سے بڑی متحدہ قوم کو "کٹی پھٹی اور بکھری قوم" میں تبدیل کرنے کا "ایک انجینئرڈ منصوبہ" تھا؛ ایسا ناسور جو آج تک نہیں بھرا اور اگلی دہائی کی جارجیا، کریمیا اور ڈونباس کی جنگوں کا پیش خیمہ بن گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی سیف تبریزی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha